اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی خواتین قیدیوں کے خلاف سنگین بے حرمتی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مکتب اطلاعات اسیران کے مطابق ایک اسرائیلی جیل افسر اور خاتون محافظوں نے 7 اور 8 اکتوبر کو خواتین قیدیوں کے خلاف شرمناک خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا۔
مکتب کے انکشاف کے مطابق جیل انتظامیہ نے خواتین قیدیوں کے حجاب اٹھا کر ان کے بالوں کی تلاشی لی، 17 خواتین قیدیوں کو تنہائی میں ڈال کر ان کی چٹیاں زبردستی کھلوائی گئیں۔ کمروں اور واش رومز کے اندر آنسو گیس اور کالی مرچ کا بھاری استعمال کیا گیا اور قیدی خواتین کو ایک گھنٹے تک زمین پر الٹا لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔
ان حملوں کے نتیجے میں کئی قیدیوں کو دم گھٹنے اور قے کی شکایت ہوئی، ایک بزرگ قیدی کو اٹھا کر منتقل کیا گیا جبکہ ایک حاملہ قیدی کی صحت بھی بگڑ گئی۔
مکتب اطلاعات اسیران نے بین الاقوامی اداروں سے فوری مداخلت، اس جبر کو روکنے اور خواتین قیدیوں کو تنہائی، تشدد اور گیس کے استعمال سے بچانے کی فوری اپیل کی ہے۔

