یمنی مسلح افواج نے 27 مارچ 2026 کو ایک اہم اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں ایران، فلسطین، لبنان اور عراق پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ "گریٹر اسرائیل” کے قیام اور مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کے صیہونی منصوبوں کو ناکام بنانا پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ یمن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور مزاحمتی محور کے خلاف جاری ظالمانہ حملوں کو فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ یہ عالمی امن اور معیشت کے لیے شدید خطرہ ہیں۔بیان میں تین بنیادی مطالبات پیش کیے گئے ہیں: ایران اور دیگر مسلم ممالک پر حملوں کا فوری خاتمہ، یمن کا ظالمانہ محاصرہ ختم کرنا، اور غزہ معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنا تاکہ فلسطینیوں کے انسانی و قانونی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ یمنی افواج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی نئے اتحاد کو شامل کیا، یا بحیرہ احمر کو ایران اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، تو یمنی فوج براہ راست فوجی مداخلت کرے گی۔ یمن نے واضح کیا ہے کہ ان کی انگلیاں ٹرگر پر ہیں اور وہ صیہونی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے، تاہم ان کی کارروائیاں صرف دشمن (امریکہ و اسرائیل) کے خلاف ہیں اور کسی مسلم قوم کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
یمنی مسلح افواج کی امریکہ اور اسرائیل کو براہ راست فوجی مداخلت کی وارننگ
متعلقہ خبریں

