نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے تل میں اسرائیلی قابض فوج اور آباد کاروں کے حملے کے دوران مقامی شہریوں کی مزاحمت کے نتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں چار فلسطینی شہید اور چار زخمی ہو گئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ رفیدیا سرکاری اسپتال کے طبی عملے نے شہداء اور زخمیوں کو وصول کیا۔ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب قابض فوج نے اپنی زمینوں اور املاک کا دفاع کرنے والے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کی۔ وزارت نے شہداء کی تعداد چار ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ متعدد زخمی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔
میدانی صورتحال کے حوالے سے مقامی ذرائع نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے دوران ایک فلسطینی نوجوان حملے میں ملوث ایک آباد کار کا ہتھیار چھیننے میں کامیاب ہو گیا، جسے اس نے بعد ازاں نابلس کے مغرب میں واقع حفات جلعاد نامی بستی کے قریب قابض فوجیوں اور آباد کاروں پر فائرنگ کے لیے استعمال کیا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی افسر سمیت چار آباد کار اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ ایک آباد کار کی حالت انتہائی تشویشناک تھی، جس کے بارے میں بعد ازاں اسرائیلی میڈیا نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی۔
اس واقعے کے فوراً بعد قابض فوج نے تل قصبے کے اطراف میں بھاری فوجی نفری تعینات کر دی اور علاقے کو سکیورٹی حصار میں لے لیا۔ فوج نے آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قصبے کے مضافات پر دھاوا بول دیا، جبکہ دوسری جانب گھروں اور زرعی زمینوں پر مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر مقامی آبادی میں بھی چوکنا رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
نابلس کے قصبے تل میں قابض فوج سے جھڑپیں، چار فلسطینی شہید اور ایک اسرائیلی ہلاک
متعلقہ خبریں

