مقبوضہ بیت المقدس سے ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے جہاں اسرائیلی حکام نے 40 روز کی طویل بندش کے بعد مسجدِ اقصیٰ کو باقاعدہ طور پر نمازیوں کے لیے کھول دیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران "سیکیورٹی وجوہات” کا حوالہ دیتے ہوئے قبلہ اول کو عبادت گزاروں کے لیے بند کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے فلسطینیوں اور عالمِ اسلام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔آج صبح مسجدِ اقصیٰ کے میناروں سے اذانِ فجر کی صدا گونجتے ہی سینکڑوں فلسطینیوں نے جوش و خروش کے ساتھ مسجد کا رخ کیا۔ بڑی تعداد میں نمازیوں نے صفیں درست کیں اور 40 دن کے طویل انتظار کے بعد حرمِ قدسی کے صحن میں باجماعت نمازِ فجر ادا کی۔ نمازیوں کی واپسی کے موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے ۔

