مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جاری مذاکرات میں غزہ جنگ بندی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب منتقلی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حماس کے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی فارمولے پر اتفاق ہو گیا ہے اور فلسطینی دھڑوں کی جانب سے لچک دکھانے کے بعد آئندہ چند گھنٹوں میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
مزاحمتی ہتھیاروں کا مستقبل اور اسرائیلی انخلا
مذاکرات میں سب سے اہم شق مزاحمتی ہتھیاروں کی تھی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق طے پانے والے معاہدے میں فلسطینی ہتھیار اسرائیل یا کسی بھی غیر ملکی فریق کے حوالے نہیں کیے جائیں گے۔ بھاری ہتھیاروں کا مکمل ریکارڈ مرتب کر کے انہیں غزہ کی قومی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا کرے گی اور قابض فوج کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کو بھی ختم کیا جائے گا۔ معاہدے پر دستخط کے دو ہفتوں کے اندر ہتھیاروں کی گنتی اور کمیٹی کے غزہ میں داخلے کا ٹائم ٹیبل طے کیا جائے گا۔
سرکاری ملازمین کے حقوق اور انتظامی معاملات
حماس ذرائع کے مطابق ملازمین کے حقوق کے حوالے سے شق نمبر پانچ پر بھی مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔ قومی کمیٹی برائے انتظام غزہ تمام سرکاری اداروں اور عوامی سہولیات کو بحال رکھے گی۔ جو ملازمین ریٹائر کیے جائیں گے یا جن کی خدمات ختم ہوں گی، انہیں فلسطینی قانون کے مطابق تمام حقوق ملیں گے۔ کمیٹی بین الاقوامی تعاون سے غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا جامع آڈٹ کرے گی، اور سپلائرز کے چالیس کروڑ ڈالر تک کے واجبات تین سال کے اندر مرحلہ وار ادا کیے جائیں گے۔
چودہ روزہ تجرباتی مرحلہ اور معاہدے کی شرائط
الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق، جمعے کے روز حتمی مسودے پر بات چیت مکمل کی جائے گی جس کے بعد اسرائیلی منظوری کا انتظار ہوگا۔ معاہدے کے اعلان کے بعد چودہ دن کا ایک تجرباتی مرحلہ شروع ہوگا۔ اس دوران غزہ پر تمام اسرائیلی حملے روک دیے جائیں گے، زرد لکیر والے علاقے کو وسیع کیا جائے گا اور روزانہ کم از کم چھ سو امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے جن میں پچاس ٹرک ایندھن کے ہوں گے۔ اس مرحلے میں فریقین کی سنجیدگی پرکھی جائے گی جس کے بعد حتمی ٹائم لائن کا اعلان ہوگا۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کا دارومدار اسرائیلی حکومت کی رضامندی اور عملی اقدامات پر ہے۔
باراک راوید کے انکشافات: معاہدے کے مجوزہ نکات
اسرائیلی صحافی باراک راوید کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کی بنیاد ایک حکومت، ایک قانون اور ایک ہتھیار کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ اس کے تحت ایک ٹیکنوکریٹ فلسطینی حکومت غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ چھ سے آٹھ ماہ کے دوران حماس اور دیگر دھڑوں کو بتدریج غیر مسلح کیا جائے گا اور سرنگوں کے نقشے و ہتھیاروں کے گودام نئی حکومت کے حوالے کیے جائیں گے۔ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ایک نئی فلسطینی پولیس فورس تشکیل دی جائے گی اور حماس کے ارکان کو عام معافی دے کر غزہ میں رہنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب اسرائیل معاہدے پر دستخط کے بعد زرد لکیر تک انخلا کرے گا اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ روک دے گا، تاہم معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے کارروائی روکنے کا حق حاصل ہوگا۔

