ایران سے وابستہ ہیکر گروپ ‘حنظلہ’ نے اسرائیل کے خفیہ انٹیلیجنس یونٹ 8200 کے انتہائی حساس ‘ایران ڈیسک’ میں بڑے پیمانے پر نقب لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہیکرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے روش ہایان (Rosh HaAyin) میں واقع ایک انتہائی خفیہ تنصیب سے وابستہ سینئر اسرائیلی افسران کی شناخت اور ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔ یہ افسران ایران کے خلاف سائبر جاسوسی، ڈیٹا پر مبنی انٹیلیجنس پروگرامز اور جدید ترین نگرانی کے نظام چلانے کے ذمہ دار ہیں۔گروپ کے مطابق، ان میں سے اکثر افسران فارسی زبان پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے خودکار سائبر حملوں اور ایرانی صارفین کے رویوں کا تجزیہ کرنے والے پروگرامز پر کام کر رہے تھے۔ حنظلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ان افسران کے مواصلاتی رابطوں اور ڈیجیٹل ٹولز کا مکمل نقشہ تیار کر لیا ہے، جسے اسرائیلی انٹیلیجنس کی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ گروپ نے اس ڈیٹا کے افشاء (Leak) کو سائبر جنگ میں شفافیت کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔

