اسرائیل کا قومی پروپیگنڈا مشینری اس وقت ایک گہرے قانونی اور سیاسی بحران کا شکار ہے کیونکہ متعدد پروپیگنڈا کرنے والوں، کنسلٹنٹس اور پروڈکشن فرموں نے ریاست کے خلاف لاکھوں شیکل کے مقدمات دائر کر دیے ہیں۔ اسرائیلی جریدے ‘کالکلسٹ’ (Calcalist) کے مطابق، ان میں سے بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں غزہ میں نسل کشی کے عروج کے دوران اسرائیل کی عالمی میڈیا مہم چلانے کے لیے ہنگامی طور پر بھرتی کیا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں پتہ چلا کہ حکومت ان کی خدمات کا معاوضہ ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ اسکینڈل اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب تحقیقات کاروں نے وزیراعظم کے دفتر کے اندر مالی بے ضابطگیوں، جعلی دستخطوں اور عملے کی شدید کمی کا انکشاف کیا۔ 7 اکتوبر کے بعد جب وزارتِ اطلاعات ختم ہوگئی تو بین الاقوامی پیغام رسانی کا کنٹرول وزیراعظم کے دفتر نے سنبھال لیا تھا۔ باقاعدہ ٹینڈرز کے بجائے، حکام نے مبینہ طور پر نجی پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ پہلے سے موجود معاہدوں میں عجلت میں توسیع کی، جنہیں بیرونِ ملک تعینات اسرائیل نواز مبصرین اور کنسلٹنٹس کو ادائیگیوں کے لیے چینل کے طور پر استعمال کیا گیا۔
کئی کمپنیوں نے اب حکومت پر بڑی رقوم روکنے کا الزام لگایا ہے۔ ‘انٹلیکٹ پروڈکشن اینڈ پبلشنگ گروپ’ نامی فرم ریاست کے خلاف تقریباً 1.7 ملین شیکل کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی سماعتوں کے دوران فلسطین نواز مظاہروں کا مقابلہ کرنے کے لیے سفری اور میڈیا آپریشنز میں مالی معاونت کی تھی۔ ایک اور کمپنی ‘اسپیڈی کال’ (Speedy Call) نے اسرائیل کے ‘کیریا’ فوجی ہیڈ کوارٹر کے اندر ایک 24 گھنٹے کام کرنے والا انٹرویو اسٹوڈیو بنایا تھا جسے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اعلیٰ حکام استعمال کرتے رہے، مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ ریاست اب نو ماہ کے کام کے 6 لاکھ شیکل سے زائد ادا کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ یہ بڑھتے ہوئے مقدمات اس افراتفری پر مبنی پروپیگنڈا نیٹ ورک کو بے نقاب کر رہے ہیں جو عجلت میں بنایا گیا تھا اور اب بلا معاوضہ بلوں اور اندرونی بدعنوانی کی تحقیقات کے بوجھ تلے بکھر رہا ہے۔
اسرائیل کے لیے پروپیگنڈا کرنے والے انفلوئنسرز کا معاوضہ نہ ملنے پر حکومت کے خلاف مقدمہ
متعلقہ خبریں

