اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی قومی سلامتی کمیٹی نے ایک ظالمانہ قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت کارروائیاں کرنے والے فلسطینی اسیران کو سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس قانون کو وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن غفیر کی حمایت حاصل ہے اور اسے اگلے ہفتے حتمی ووٹنگ کے لیے کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق، اگر کوئی فلسطینی کسی اسرائیلی کے قتل کا ذمہ دار پایا گیا تو اسے لازمی طور پر پھانسی دی جائے گی اور اس سزا میں کسی قسم کی معافی یا تبدیلی کی گنجائش نہیں ہوگی۔
اس قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد 90 دن کے اندر سزا پر عمل درآمد ضروری ہوگا، جسے خاص حالات میں وزیراعظم صرف 180 دن تک مؤخر کر سکے گا۔ دوسری جانب، حماس نے اس اقدام کو "پھانسی کی سیاست” اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل جیلوں کو قتل گاہوں میں بدلنا چاہتا ہے، اور اسیران کی زندگیوں سے کھلواڑ ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس کا انجام شدید عوامی غصے اور مزاحمت کی صورت میں نکلے گا۔

