مصر اور غزہ کے درمیان واقع اہم ترین گزرگاہ، رفح کراسنگ کو طویل عرصے کے بعد آج باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا ہے۔ اس اہم ترین راہداری کا انتظام مصری حکام اور یورپی یونین کی ایک خصوصی کمیٹی کے اشتراک سے سنبھالا جا رہا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں طبی نظام کی مکمل تباہی اور ہسپتالوں کی غیر فعالیت کے باعث، اس وقت شدید زخمیوں اور مریضوں کی زندگیوں کو بچانا اولین ترجیح ہے۔ اسی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فی الحال صرف ان مریضوں اور زخمیوں کو مصر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے جو غزہ میں علاج کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
رفح کراسنگ: آمد و رفت کی تفصیلات
اسرائیلی حکومت کی جانب سے عائد کردہ سخت شرائط اور محدود کوٹے کے تحت فی الحال کراسنگ سے نقل و حرکت درج ذیل طریقہ کار کے مطابق ہو رہی ہے:
مریضوں کی منتقلی: روزانہ کی بنیاد پر صرف 50 مریضوں کو غزہ سے مصر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
لواحقین: ہر مریض کے ساتھ دو لواحقین کو جانے کی اجازت ہے، جس کے بعد غزہ سے مصر جانے والوں کی مجموعی تعداد روزانہ 150 افراد بنتی ہے۔
واپسی کا راستہ: دوسری جانب مصر سے غزہ میں داخلے کے لیے بھی سخت پابندیاں برقرار ہیں، جہاں روزانہ صرف 50 افراد کو غزہ جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
ہزاروں فلسطینی واپسی کے منتظر
ایک طویل عرصے تک سرحد بند رہنے کی وجہ سے اس وقت 80 ہزار سے زائد فلسطینی مصر میں پھنسے ہوئے ہیں جو اپنے گھروں اور پیاروں کے پاس غزہ واپس جانے کے منتظر ہیں۔ روزانہ صرف 50 افراد کی واپسی کی سست رفتار نے ان خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو شدید بے یقینی کی صورتحال کا شکار ہیں۔
رفح کراسنگ کو کھول دیا گیا مگر اسرائیلی شرائط پر
متعلقہ خبریں

