آج جب پوری دنیا کی نظریں غزہ کے ملبے اور وہاں جاری انسانی المیے پر جمی ہیں اور معاہدوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، تو ٹھیک اسی وقت مقبوضہ مغربی کنارے کی گلیوں میں ایک اور خاموش لیکن انتہائی ہولناک جنگ لڑی جا رہی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو بڑی خبروں کے شور میں کہیں دب کر رہ گئی ہے، لیکن اس کی شدت کسی بھی طور کم نہیں۔ اسرائیل یہاں محض اپنی فوج نہیں بلکہ اپنے تمام تر استعماری ہتھکنڈوں کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کے لیے سانس لینا بھی محال کر دیا جائے۔ اسرائیل اپنی ان کارروائیوں کو "انسدادِ دہشت گردی” جیسے بھاری بھرکم الفاظ کے پیچھے چھپاتا ہے، لیکن حقیقت میں "آپریشن سمر کیمپس” یا "آئرن وال” جیسے نام نہاد مشن محض ایک دھوکا ہیں۔ ان کا اصل مقصد کسی عسکری خطرے کو ختم کرنا نہیں بلکہ فلسطینیوں کو ان کی اپنی مٹی سے بیزار کر کے بے دخل کرنا ہے۔
اگر ہم حالیہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مغربی کنارہ اس وقت 1967 کے بعد کی سب سے بڑی نقل مکانی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں اب تک ہزاروں کے قریب انسانوں کو ان کی چھتوں سے محروم کیا جا چکا ہے۔ جنین اور طولکرم جیسے تاریخی پناہ گزین کیمپوں کا حشر دیکھ کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے؛ وہاں کی 70 فی صد سڑکیں بلڈوز کر دی گئی ہیں، پانی کی لائنیں کاٹ دی گئی ہیں اور سیوریج کا نظام ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اسرائیل نے صرف انفراسٹرکچر ہی تباہ نہیں کیا بلکہ ان علاقوں کو عملاً فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا ہے تاکہ وہاں زندگی دوبارہ کبھی نہ پنپ سکے۔ الخلیل سے لے کر بیت لحم تک، اسرائیلی ٹینکوں کی گھگھراہٹ اب فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے، جہاں سرِ عام نوجوانوں کی تذلیل اور وحشیانہ تفتیش اب کوئی غیر معمولی بات نہیں رہی۔
مغربی کنارے میں اسرائیل نے "خوف” کو ایک باقاعدہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ہر گزرتا ہفتہ کئی شہادتوں، سینکڑوں زخمیوں اور درجنوں مسمار شدہ گھروں کی المناک داستان لے کر آتا ہے۔ لیکن یہ صرف جسمانی تشدد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے۔ جب ایک گھنٹے کا سفر اسرائیلی چوکیوں اور بند راستوں کی وجہ سے چار گھنٹوں کی اذیت میں بدل جاتا ہے، تو مقصد صرف راستہ روکنا نہیں ہوتا بلکہ فلسطینیوں کی معیشت اور سماجی ہمت کو توڑنا ہوتا ہے۔ یہ وہ بکھری ہوئی جغرافیائی تقسیم ہے جہاں ایک گاؤں دوسرے سے اور ایک شہر دوسرے سے کٹ چکا ہے، اور انسان اپنی ہی زمین پر اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔
اس سنگین صورتحال میں اسرائیلی فوج اور مسلح آباد کاروں کا گٹھ جوڑ ایک نئی اور بھیانک صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ آباد کار اب صرف ایک ہجوم نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ملیشیا ہیں جنہیں جدید ترین ہتھیار اور ڈرونز فراہم کیے گئے ہیں۔ جہاں فوج آپریشن ختم کرتی ہے، وہاں سے یہ مسلح جتھے فلسطینیوں کی املاک پر ٹوٹ پڑتے ہیں، ان کے زیتون کے باغات اجاڑتے ہیں اور گھروں میں گھس کر قیمتی اشیاء لوٹ لیتے ہیں۔ اسرائیل اب صرف زمین ہی نہیں چھین رہا، بلکہ وہ فلسطینیوں کے معاشی وسائل پر بھی ڈاکا ڈال رہا ہے تاکہ تعمیرِ نو کا ہر امکان ختم ہو جائے۔ یہ ایک ایسی نسل کشی ہے جو خاموشی سے، بغیر کسی بڑے دھماکے کے، روزانہ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے تاکہ فلسطینیوں کی اجتماعی مزاحمت کو تھکا کر ختم کر دیا جائے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ مغربی کنارے میں ہونے والا یہ ظلم کسی حادثاتی تصادم کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی سرد مہری ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں محاذِ جنگ کی کوئی واضح لکیر نہیں، بلکہ ہر فلسطینی کا گھر، اس کی دکان اور اس کا کچن ہی میدانِ جنگ بنا دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی حکمتِ عملی اب واضح ہو چکی ہے: وہ فلسطینیوں کو مارنا نہیں چاہتا، وہ انہیں مٹانا چاہتا ہے۔ وہ ان کی زندگی سے سکون، ان کی معیشت سے سہارا اور ان کے مستقبل سے امید چھین لینا چاہتا ہے تاکہ وہ خود ہی اپنی مٹی کو خیرباد کہہ دیں۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب دیوار سے لگائے گئے انسانوں کے پاس کھونے کو کچھ باقی نہ رہے، تو ان کی خاموشی سب سے بڑا طوفان بن جاتی ہے۔ مغربی کنارے کی یہ "خاموش جنگ” عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا دنیا اسی طرح خاموش تماشائی بنی رہے گی، یا پھر انسانیت کے علمبردار اس منظم نسل کشی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے؟ یہ محض ایک زمین کے ٹکڑے کی لڑائی نہیں، بلکہ یہ انسانی وقار اور بقا کی وہ جنگ ہے جسے فلسطینی تنِ تنہا لڑ رہے ہیں۔
( حوالہ و کریڈٹ: یہ تحریر رام اللہ میں مقیم معروف فلسطینی امریکی صحافی اور مصنفہ مریم برغوثی (Mariam Barghouti) کے الجزیرہ کے لیے لکھے گئے مضمون کا اردو ترجمہ، تخریج اور خصوصی اضافہ ہے۔ اس تحریر کا سیاسی تجزیہ اور مشاہدات مصنفہ کی اپنی تحقیق اور زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔)
مغربی کنارے کی "خاموش جنگ”: وه حقائق جن پر عالمی میڈیا خاموش ہے
متعلقہ خبریں

