آج 25 فروری 2026 کو فلسطینی قوم مسجدِ ابراہیمی میں ہونے والے اس وحشیانہ قتلِ عام کی 32 ویں برسی منا رہی ہے جس نے الخلیل شہر اور پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ 15 رمضان المبارک، 25 فروری 1994 بروز جمعہ، انتہا پسند اسرائیلی آباد کار باروخ گولڈسٹین نے اس وقت نمازیوں پر فائرنگ کی جب وہ فجر کی نماز میں سجدہ ریز تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق، جب گولڈسٹین نے فائرنگ شروع کی تو مسجد میں موجود اسرائیلی افواج نے مسجد کے دروازے بند کر دیے تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے اور باہر سے کوئی امداد کے لیے اندر نہ آ سکے۔ اس وحشیانہ کارروائی میں مسجد کے اندر 29 نمازی شہید ہوئے، جبکہ بعد ازاں جنازوں اور احتجاجی مظاہروں پر اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے شہداء کی کل تعداد 50 تک پہنچ گئی۔ اس روز پورے فلسطین میں ہونے والی جھڑپوں میں مزید 60 فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
اس قتلِ عام کے بعد اسرائیل نے چھ ماہ کے لیے مسجد اور پرانے شہر کو بند کر دیا اور یکطرفہ طور پر "شمگار کمیشن” تشکیل دیا۔ اس کمیشن کی سفارشات کی آڑ میں مسجدِ ابراہیمی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، جس کے تحت تقریباً 60 فیصد حصہ اسرائیلی کنٹرول میں دے دیا گیا۔ اس تقسیم نے الخلیل کے پرانے شہر میں فلسطینیوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا اور اسرائیل کو مسجد کے بڑے حصے پر تسلط اور اسے "یہودیت” کے رنگ میں رنگنے کا موقع فراہم کیا۔
آج 32 سال گزرنے کے باوجود مسجدِ ابراہیمی بدستور اسرائیلی قبضے، بھاری فوجی پہرے اور آباد کاروں کی یلغار کا سامنا کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکام اکثر و بیشتر مسجد میں اذان دینے پر پابندی عائد کر دیتے ہیں اور نمازیوں کے لیے سخت ترین رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ فلسطینیوں کے لیے یہ دن محض ایک یادگار نہیں بلکہ اس مسلسل ناانصافی اور قبضے کی یاد دہانی ہے جو آج بھی الخلیل کے قلب میں جاری ہے۔
مسجد ابراہیمی قتل عام کے 32 سال
متعلقہ خبریں

