بدھ, اکتوبر 21, 2026
ہومکالمغزہ : کاغذی امن کے سائے میں سسکتا بچپن

غزہ : کاغذی امن کے سائے میں سسکتا بچپن

جب دنیا 2025ء کے اختتام پر ‘امن معاہدے’ کی نوید سن کر سکھ کا سانس لے رہی تھی اور نئے سال 2026ء کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھی، عین اسی وقت غزہ کے ملبے تلے دبے معصوم خواب ایک نئی اور زیادہ ہولناک خاموشی کی نذر ہو رہے تھے۔ ہم جسے ‘جنگ بندی’ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں، وہ غزہ کے بچوں کے لیے محض موت کے طریقہ کار کی تبدیلی نکلی۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے (UNICEF) کے تازہ ترین اعداد و شمار اور رائٹرز کی رپورٹس ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں، جو بتاتی ہیں کہ اس نام نہاد معاہدے کے بعد بھی 100 سے زائد ننھے چراغ گل کر دیے گئے۔ یہ سو بچے محض گنتی کے ہندسے نہیں ہیں، بلکہ یہ سو ادھورے قصے، سو خالی بستے اور سو ایسی مائیں ہیں جن کی گود اب کبھی نہیں بھرے گی۔یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کی آواز میں موجود کرب کو محسوس کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ زمین پر بقا کی جنگ اب کسی معاہدے کی نہیں بلکہ محض اتفاقات اور حالات کے رحم و کرم پر ہے۔ ایلڈر کے مطابق، معاہدے کے بعد کے ان چند ہفتوں میں 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بنیں، اور یہ تو صرف وہ بدقسمت ہیں جن کی لاشیں گنی جا سکیں اور جن کا اندراج ریکارڈ میں ہو سکا؛ ورنہ غزہ کے موجودہ حالات اور مواصلاتی بلیک آؤٹ میں اصل تعداد تو شاید اس سے کہیں زیادہ ہے جو کبھی منظرِ عام پر نہیں آپائے گی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ عالمی طاقتیں اسے ‘جنگ بندی’ کا نام دیتی ہیں، مگر زمین پر کواڈ کاپٹرز کی گونج، ڈرونز کی سائیں سائیں اور ماہر نشانہ بازوں کی گولیاں اب بھی معصوم سینوں کو چھلنی کر رہی ہیں۔ یہ کیسی جنگ بندی ہے جہاں بم تو شاید نہیں گر رہے، مگر موت اب خاموش آہٹوں کے ساتھ ہر گلی میں رقص کر رہی ہے۔اس سارے المیے میں سب سے تکلیف دہ پہلو وہ ‘ٹیکنیکل خاموشی’ ہے جو اس معاہدے کی آڑ میں اختیار کی گئی۔ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ 2025ء کے آخر میں ہونے والا یہ معاہدہ انسانی ہمدردی سے زیادہ ایک فوجی حکمتِ عملی یا ‘ٹیکٹیکل پوز’ محسوس ہوتا ہے۔ معاہدے کی تحریر میں ‘فوجی کارروائی’ کی تعریف اتنی مبہم رکھی گئی کہ فریقین کو چھوٹے پیمانے کے حملوں اور ٹارگٹڈ آپریشنز کا راستہ کھلا مل گیا۔ اسی ابہام کا نتیجہ ہے کہ غزہ کا وہ بچہ جو ‘امن’ کی خبر سن کر ملبے کے ڈھیر پر کھیلنے نکلا تھا، وہاں موجود کسی پرانے بارودی مواد یا اچانک ہونے والی فائرنگ کا شکار ہو گیا۔ بغیر کسی خود مختار عالمی مبصر یا مانیٹرنگ سسٹم کے، ایسی جنگ بندیاں صرف طاقتور فریق کو دوبارہ منظم ہونے کا وقت فراہم کرتی ہیں، جبکہ کمزور آبادی کے لیے یہ وقفہ مزید غیر یقینی اور خوف کا باعث بنتا ہے۔اب جب کہ ہم 2026ء کے آغاز میں ہیں، غزہ کا محصور بچہ صرف بارود کا ہی نہیں بلکہ موسم کی بے رحمی کا بھی نشانہ ہے۔ ایک طرف خوراک اور ایندھن کی وہ قلت ہے جو معاہدے کے باوجود ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، اور دوسری طرف خون جما دینے والی سردی اور بارشوں کا وہ سلسلہ ہے جس نے خیموں میں پناہ گزین خاندانوں کو ہائپوتھرمیا اور وبائی امراض کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ صاف پانی اب وہاں ایک خواب بن چکا ہے اور میڈیکل سپلائی کی عدم دستیابی نے ہسپتالوں کو محض عمارتوں میں بدل دیا ہے۔ اگر عالمی برادری اب بھی اس ‘کاغذی امن’ کی مالا جپتی رہی اور زمین پر ہونے والی ان ہلاکتوں پر خاموش رہی، تو تاریخ اس خاموشی کو بھی جرم کے برابر لکھے گی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک بندوقوں کے رخ مستقل نہیں مڑتے اور جب تک ہر بچے کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک دنیا کا ہر معاہدہ محض ایک ایسا سراب ہے جو پیاسے کو پانی نہیں، صرف دھوکہ دے سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

مزید دیکھیں

آپ کے تبصرے

راج ولی خان محمدی حقانی پر ایران جنگ | 24 مارچ، 25ویں دن کا خلاصہ
راج ولی خان محمدی حقانی پر ایران جنگ | 24 مارچ، 25ویں دن کا خلاصہ