بدھ, اکتوبر 21, 2026
ہومکالمصیہونی غرور کا نقب زن : رفعت علی سلیمان جمال

صیہونی غرور کا نقب زن : رفعت علی سلیمان جمال

تاریخ کے پنوں پر کچھ جنگیں تلواروں اور ٹینکوں سے لڑی جاتی ہیں، اور کچھ جنگیں خاموشی، صبر اور اعصاب سے لڑی جاتی ہیں۔ جب ہم مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اور بالخصوص سرزمینِ فلسطین کی مزاحمت کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں کئی گمنام مجاہدین ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت روشن نام رفعت علی سلیمان جمال کا ہے، جنہیں دنیا "رأفت الہجان” کے نام سے جانتی ہے۔ سنہ 1980 کی دہائی میں جب ان کی زندگی پر مبنی ٹیلی ویژن سیریز نشر ہوئی، تو یہ محض ایک ڈرامہ نہیں تھا۔ یہ لاکھوں مسلمانوں کے دلوں کی وہ آواز تھی جو صیہونی ریاست کے ظلم کے خلاف سینوں میں دبی تھی۔ معروف ادیب صالح مرسی نے اپنی کتاب ’آئی واز اے سپائی ان اسرائیل‘ میں اس عظیم انسان کی کہانی قلم بند کی، جس نے مسلسل 17 برس تک غاصب دشمن کے قلعے میں قیام کیا اور صیہونی غرور کو اندر سے کھوکھلا کیا۔
رفعت جمال کی کہانی یکم جولائی 1927 کو مصر کے ساحلی شہر دمیاط سے شروع ہوتی ہے۔ وہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کوئلے کا کاروبار کرتے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا خاندان قاہرہ منتقل ہو گیا، جہاں رفعت نے زندگی کی تلخیوں کا بہت قریب سے سامنا کیا۔ کامرس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بحیرہ احمر کی ایک آئل کمپنی میں نوکری کی۔ قدرت نے انہیں غیر معمولی ذہانت اور حالات کے مطابق فوراً ڈھل جانے کی صلاحیت عطا کر رکھی تھی۔ کم عمری میں ہی انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر مکمل عبور ان کی وہ خوبی تھی جس نے مستقبل میں ان کی بہت مدد کی۔ان کی زندگی کا اصل موڑ 1952 کے انقلاب کے بعد آیا۔ مصری انٹیلیجنس اس وقت تشکیل کے مراحل میں تھی اور وہ ایسے نوجوانوں کی تلاش میں تھی جو وطن اور امت کے دفاع کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ سکیں۔ انٹیلی جنس کے حکام نے رفعت کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ انہیں ایک بہت کٹھن پیشکش کی گئی: یا تو وہ ایک عام سی زندگی گزاریں، یا پھر ایک ایسے مشن کا حصہ بنیں جس میں واپسی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ رفعت کے دل میں امت کا درد اور فلسطین کا غم تھا۔ انہوں نے خاموش خدمت کا کانٹوں بھرا راستہ چنا اور یوں ان کی سخت ترین تربیت کا آغاز ہوا۔
یہ تربیت محض جسمانی نہیں تھی بلکہ ایک مکمل نفسیاتی تبدیلی تھی۔ انہیں جاسوسی کی جدید ترین تکنیکیں سکھائی گئیں۔ نظر نہ آنے والی سیاہی سے پیغام بھیجنا، خفیہ کوڈز بنانا، اور ریڈیو ٹرانسمیٹر کا استعمال ان کی تربیت کا حصہ تھا۔ لیکن سب سے مشکل مرحلہ ان کی نئی شناخت کی تخلیق تھا۔ انہیں یہ سکھایا گیا کہ ایک یہودی کیسے سوچتا ہے، کیسے بولتا ہے اور کیسے عبادت کرتا ہے۔ اشکنازی اور سیفارد یہودیوں کے فرق اور صیہونی نظریات کی مکمل تاریخ ان کے ذہن میں بٹھا دی گئی۔ اس محنت کے بعد "جیکس بیٹن” نامی ایک نئی شناخت نے جنم لیا۔1955ء میں رفعت جمال ایک مصری یہودی کے روپ میں اسرائیل پہنچ گئے۔ ان کا وہاں جانا غاصب ریاست کی جڑوں میں ایک ایسا بیج بونے کے مترادف تھا جو آگے چل کر ان کے زوال کا سبب بننے والا تھا۔ تل ابیب میں انہوں نے ’سی ٹورز‘ کے نام سے ایک سیاحتی کمپنی کھولی۔ بظاہر یہ ایک ٹریول ایجنسی تھی، لیکن حقیقت میں یہ صیہونی ریاست کے عسکری اور سیاسی ایوانوں میں گھسنے کا ایک خفیہ راستہ تھی۔ان کی خوش اخلاقی اور کرشماتی شخصیت نے بہت جلد اسرائیلی فوجی افسران اور سیاست دانوں کو ان کا دوست بنا دیا۔ وہ بظاہر ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے، لیکن ان کے کان ہر اس معلومات پر لگے ہوتے جو فلسطین اور خطے کے دفاع کے کام آ سکتی تھی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مسلسل 17 سال تک ایک جھوٹی شناخت کے ساتھ جینا، ہر وقت پکڑے جانے کے خوف میں رہنا اور اپنے ہی لوگوں کی نفرت سہنا ایک بہت بڑی قربانی تھی۔ صالح مرسی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ رفعت راتوں کو سوتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں وہ نیند میں عربی زبان کا کوئی لفظ نہ بول پڑیں اور ان کا راز فاش نہ ہو جائے۔ یہ وہ اعصابی جنگ تھی جو انہوں نے ہر روز تنہا لڑی۔
رفعت جمال کی اس طویل جدوجہد کا سب سے بڑا ثمر 1973 ء کی جنگ (یومِ کپور) میں سامنے آیا۔ صیہونی ریاست نے نہر سویز کے مشرقی کنارے پر ریت اور کنکریٹ کی ایک بہت بڑی دفاعی دیوار بنا رکھی تھی، جسے "بارلیف لائن” کہا جاتا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ یہ دیوار ناقابلِ تسخیر ہے اور اسے ایٹم بم کے علاوہ کسی چیز سے نہیں توڑا جا سکتا۔رفعت جمال نے اپنی کاروباری اور سماجی رسائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دیوار کی انجینئرنگ کی مکمل تفصیلات اور نقشے حاصل کر لیے۔ انہوں نے قاہرہ یہ انتہائی اہم پیغام بھیجا کہ اس دیوار کو بارود سے نہیں، بلکہ پانی کے تیز پریشر سے باآسانی گرایا جا سکتا ہے۔ 1973 ء کی جنگ میں مصری انجینئرز نے اسی اصول پر کام کیا اور پانی کی توپوں (Water Cannons) سے چند گھنٹوں میں صیہونیوں کا یہ غرور مٹی میں ملا دیا۔ یہ محض ایک عسکری فتح نہیں تھی، بلکہ یہ ثابت کرتی تھی کہ درست معلومات اور سچا جذبہ ٹیکنالوجی کے ہر غرور کو توڑ سکتا ہے۔
ان کی استقامت اور عقابی نگاہ کا ایک اور شاندار واقعہ اسرائیلی جاسوس ایلی کوہن کو بے نقاب کرنا تھا۔ ایلی کوہن ایک انتہائی خطرناک صیہونی ایجنٹ تھا جو شام کی وزارتِ دفاع میں "کمال امین ثابت” کے نام سے ایک اعلیٰ عہدے پر پہنچ چکا تھا۔ وہ خطے کی اسلامی مزاحمت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تھا۔ رفعت جمال نے جب ایک عربی اخبار میں اس کی تصویر شامی افسران کے ساتھ دیکھی، تو انہوں نے فوراً اسے پہچان لیا، کیونکہ وہ ماضی میں مصر میں اس سے مل چکے تھے۔ انہوں نے فوراً یہ اطلاع اپنی انٹیلی جنس کو دی، جس کے بعد شامی حکام نے ایلی کوہن کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور 1965ء میں دمشق میں اسے پھانسی دے دی گئی۔ رفعت جمال کی اس بروقت کارروائی نے شام اور مزاحمتی قوتوں کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچا لیا۔
30 جنوری 1982 کو جرمنی میں کینسر کے موذی مرض سے لڑتے ہوئے رفعت جمال اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ دنیا سے چلے گئے لیکن ان کی خاموش قربانی کی گونج آج بھی تاریخ کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فلسطین کی آزادی اور غاصب صیہونیوں کے خلاف جنگ محض جذباتی نعروں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے علم، ہنر، اعصاب کی پختگی اور طویل خاموش منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔رأفت الہجان کا نام تاریخ میں ایک ایسے جری مجاہد کے طور پر زندہ رہے گا جس نے ہتھیار اٹھائے بغیر دشمن کو اس کے اپنے گھر میں شکست دی۔ ان کی یہ داستانِ شجاعت آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک مینارہِ نور بنی رہے گی۔
مصر میں رفعت جمال پر فلمائی جانے والی سیریز کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس (موساد) کو جب اپنی اس تاریخی ناکامی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک نیا جھوٹا بیانیہ گھڑا۔ اسرائیلی اخبارات نے دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ رفعت جمال دراصل ایک "ڈبل ایجنٹ” تھے اور وہ اسرائیل کے لیے کام کر رہے تھے۔ لیکن ان کا یہ دعویٰ حقائق کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔
اگر وہ واقعی ڈبل ایجنٹ ہوتے، تو 1973ء کی جنگ میں صیہونی فوج یوں اچانک حملے کا شکار نہ ہوتی۔ اسرائیل کو بارلیف لائن کے ٹوٹنے پر اتنی حیرانی کیوں ہوئی؟ خود اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی "شن بیٹ” کے سابق نائب سربراہ اور موساد کے سابق عہدیداروں کے بیانات میں اس حوالے سے واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ درحقیقت، یہ صیہونی ریاست کی وہ روایتی خصلت ہے کہ جب وہ میدان میں ہار جاتے ہیں، تو وہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رفعت جمال کی زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف اپنی سرزمین اور مزاحمتی مقاصد کے لیے وقف تھا۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

مزید دیکھیں

آپ کے تبصرے

راج ولی خان محمدی حقانی پر ایران جنگ | 24 مارچ، 25ویں دن کا خلاصہ
راج ولی خان محمدی حقانی پر ایران جنگ | 24 مارچ، 25ویں دن کا خلاصہ