مسجدِ اقصی کے امام اور خطیب شیخ عکرمہ صبری نے رمضان المبارک کے آغاز پر قبلہ اول کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام گزشتہ ایک ماہ سے اس بات پر کام کر رہے تھے کہ کس طرح رمضان کے مقدس مہینے میں مسلمانوں کو مسجدِ اقصی تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
سیکیورٹی کے بہانے سیاسی اہداف:
شیخ عکرمہ صبری کے مطابق، اسرائیلی افواج ہزاروں مسلمانوں کے مسجدِ اقصی کی جانب رخ کرنے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کو بنیاد بنا کر نمازیوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام منصوبوں کا واحد مقصد بیت المقدس (یروشلم) اور خاص طور پر مسجدِ اقصی میں اسلامی شناخت اور مسلمانوں کی حاضری کو کم سے کم کرنا ہے۔
ماضی سے زیادہ سخت اقدامات:
خطیبِ مسجدِ اقصی نے واضح کیا کہ اس سال اسرائیلی اقدامات گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جارحانہ اور تصادم کی جانب لے جانے والے ہیں۔ انہوں نے امتِ مسلمہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسجدِ اقصی کے تقدس کی پامالی اور نمازیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیں۔ شیخ صبری نے فلسطینی عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام تر پابندیوں کے باوجود فلسطینی اپنے قبلہ اول کا دفاع جاری رکھیں گے
خطیب مسجد اقصیٰ: اسرائیلی حکام مسجدِ اقصی میں مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کی سازش کر رہے ہیں
متعلقہ خبریں

