برطانوی ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں حکومت کے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کے تحت ایکٹوسٹ گروپ "فلسطین ایکشن” کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سابق ہوم سیکرٹری ایویٹ کوپر کا گروپ پر پابندی لگانے کا فیصلہ غیر متناسب تھا اور اس سے سیاسی اختلافِ رائے کو جرم بنانے کا خطرہ پیدا ہوا۔ جج وکٹوریہ شارپ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ غیر قانونی تھا، تاہم حکومت کی جانب سے اپیل دائر کیے جانے تک پابندی تکنیکی طور پر نافذ رہے گی۔
اس فیصلے کو شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ فلسطین ایکشن ایک ایسا گروپ ہے جو اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف احتجاج اور ان کی کارروائیاں روکنے کے لیے سرگرم ہے۔ گروپ کی شریک بانی ہدیٰ عموری نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ احتجاج کو دہشت گردی قرار دینا غلط تھا۔ اس پابندی کے بعد سے اب تک برطانیہ بھر میں یکجہتی کے مظاہروں کے دوران تقریباً 3,000 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن کے بارے میں اب یہ قانونی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ان کی گرفتاریاں بھی غیر قانونی تھیں۔

