ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
امریکہ ایران کے سویلین نیوکلیئر پروجیکٹ (بجلی کی پیداوار) کی ترقی میں مدد فراہم کرے گا۔
ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کا خطرہ ختم کر دیا جائے گا۔
ایران کا ایٹمی پروگرام ایک مخصوص فریم ورک کے تحت منجمد کر دیا جائے گا۔افزودہ یورینیم ایران میں ہی رہے گی لیکن اس کی نگرانی کی جائے گی اور مقدار کی حد مقرر ہوگی۔
میزائل پروگرام پر بات چیت اگلے مرحلے میں ہوگی جس میں میزائلوں کی تعداد اور رینج پر حد لگائی جائے گی۔
ایٹمی پروگرام کا استعمال صرف سویلین اور دفاعی مقاصد تک محدود رہے گا۔موجودہ ایٹمی صلاحیتوں میں مزید ترقی کو روک دیا جائے گا۔
یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت میں مزید کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔ایرانی سرزمین پر ہتھیاروں میں استعمال ہونے والا ایٹمی مواد تیار نہیں کیا جائے گا۔
تمام افزودہ مواد ایک طے شدہ وقت کے اندر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے کرنا ہوگا۔نتنز، اصفہان اور فردو میں موجود ایٹمی تنصیبات کو ختم کر دیا جائے گا۔
بین الاقوامی نگرانی اور تصدیق کا سخت نظام نافذ کیا جائے گا۔اس منصوبے پر عمل درآمد بتدریج ہوگا جو ایران کی جانب سے شرائط ماننے سے جڑا ہوگا۔
فریقین کے درمیان مزید علاقائی اور حفاظتی معاہدے کیے جائیں گے۔

