القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے عصر کے وقت ایک اہم خطاب کیا ہے جس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں:
ابو عبیدہ نے واضح کیا کہ مزاحمت کی جانب سے دکھائی جانے والی "لچک اور صبر” کو قابض دشمن نے ہماری کمزوری سمجھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "حساب کی کتاب کھلی ہے” اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ رہنماؤں کا خون مزاحمت کے تسلسل کا ایندھن ہے۔ ان کی جگہ لینے کے لیے کمانڈرز کی ایک نئی نسل تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایسے قائدین باقی ہیں جو تیاری اور رباط کے میدانوں میں پروان چڑھے ہیں، جنہیں تجربات نے منجھے ہوئے بنایا اور جنگوں نے صیقل کیا ہے۔
قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے سے مکرنے اور مسلسل خلاف ورزیوں پر انہوں نے ثالثوں اور ضامن ممالک کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں اور سوال اٹھایا کہ اسرائیلی جرائم کے تسلسل کے باوجود ثالثوں اور ضامنوں کا کردار کہاں ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کا پابند کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دشمن کے خلاف متحد ہوں، اور خاموشی و غیر جانبداری توڑ کر مزاحمت کی عملی حمایت کریں۔
ابو عبیدہ نے لبنانی مزاحمت کی کارروائیوں کو سلام پیش کیا اور کہا کہ دشمن غزہ کے مجاہدین، مغربی کنارے میں اپنی گاڑی سے فوجیوں کو کچلنے والے شہید امجد النتشہ اور تمام دیگر محاذوں کے سامنے انتہائی کمزور ثابت ہوا ہے جنہوں نے دشمن کو عبرت کا نشان بنایا۔
خطاب کے آخر میں انہوں نے غزہ کے غیور عوام کو یقین دلایا کہ مزاحمت ان کی لازوال قربانیوں اور ثابت قدمی سے کبھی غداری نہیں کرے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اسی راستے پر سفر جاری رہے گا جس پر قائدین نے جانیں قربان کیں، اور صبر کا صلہ فتح کی صورت میں ملے گا۔

